Wednesday, 10 June 2015

Dost

Download Urdu Quotes  ||  Jaun Elia Poetry


زندگی کے ساتھ ساتھ ہمارے دوست بھی کم ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ یادوں سے محو ہو جاتے ہیں، کچھ دل سے اُتر جاتے ہیں اور کچھ نظروں سے گر جاتے ہیں۔ دوستوں کی تعداد کتنی ہے کوئی معنی نہیں رکھتی، اگر کچھ معنی رکھتا ہے تو یہ کہ ان میں کتنے سچے ہیرے ہیں جو لفظ دوستی کے معنوں پر پورے اترتے ہیں۔

Kitab Sheher e Arzoo se Iqtibas



انسان بڑی دلچسپ مخلوق ہے۔ یہ جانور کو مصیبت میں دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا لیکن انسان کو مصیبت میں مبتلا کر کے خوش ہوتا ہے۔
.
یہ پتھر کے بتوں تلے ریشم اور بانات کی چادریں بچھا کر ان کی پوجا کرتا ہے۔ لیکن انسان کے دل کو ناخنوں سے کھروچ کے رستا ہوا خون چاٹتا ہے۔
.
انسان اپنی کار کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس کا ماتھا پونچھتا اور اس کے پہلو چمکاتا ہے اور میلے کچیلے آدمی کو دھکے دے کر اس لیے پرے گرا دیتا ہے کہ کہیں ہاتھ لگا کر وہ اس مشین کا ماتھا نہ دھندلا کر دے ۔
.
انسان پتھروں سے مشینوں سے جانوروں سے پیار کر سکتا ہے انسانوں سے نہیں۔

اشفاق صاحب کی کتاب شہر آرزو سے اقتباس

Punjab ki Ek Lok Kahani


بیٹے نے جوان ہوتے ہی پر پرزے نکالنے شروع کردیے۔ اوباش اور آوارہ لوگوں کی صحبت میں‌بیٹھنے لگا۔ جوچیز ہاتھ لگتی دوستوں کو کھلا دیتا۔ بوڑھے باپ نے جب ایک دوبار سمجھانے کی کوشش کی تو کہنے لگا، بابا آپ بلاوجہ میرے دوستوں کی مخالفت کرتے ہیں،جیسےمیرے دوست ہیں‌ایسے تو دنیا میں کسی کے ہو ہی نہیں‌سکتے۔ میرے پسینے کی جگہ خون بہانے کو تیار رہتے ہیں۔ بوڑھے باپ نے کہا ، بیٹے ایک دن پچھتاؤ گے اور پھر کہو گے کہ باپ ٹھیک ہی کہتا تھا۔ بیٹے پر جوانی کا بھوت سوار تھا اور آوارہ دوستوں کی صحبت نے اس کے کان بند کردیے تھے۔ بالاخر اس نے گھر کی ہر چیز ٹھکانے لگا دی۔ جب لڈو ختم ہوئے تو اس کے یاروں نے بھی منہ چرانا شروع کردیا اور ایک ایک کرکے کھسک گئے۔ نوجوان کی یہ حالت ہوئی کہ اس کا دوستی کے رشتے سے ہی ایمان اٹھ گیا۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اب دوستی کے رشتے کو کوستا۔ باپ نے ایک دن اسے کہا، چل میرے ساتھ ، وہ باپ کے ساتھ چل پڑا۔ رات گئے وہ ایک گاؤں میں پہنچے۔ باپ نے کہا یہ میرے دوست کا گھر ہے تمھیں‌پتا چل جائے گا کہ دوست کیا ہوتے ہیں۔ باپ نے دستک دی، اندر سے کھسر پھسر کی آواز سنائی دی، پھر پوچھا گیا کون ہے؟
نوجوان کے بوڑھے باپ نے اپنا نام بتایا۔ مگر دروازہ نہ کھلا جب کافی دیر ہو گئی تو بیٹے نے کہا یہ ہے آپ کا دوست جس پر آپ کو بڑا ناز تھا۔۔۔ابھی تک دروازہ نہیں‌کھولا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی وقت دروازہ کھلا اور گھر کا مالک باہر نکلا، اس نے بوڑھے کو سینے سے لگایا، نوجوان کے سر پر پیار کیا اور بولا ۔۔۔ معاف کرنا دیر ہو گئی تم برسوں کے بعد آئے تھے سوچا ۔۔۔۔کوئی کام ہو گا اگر کسی سے بدلہ لینا ہے تو میری تلوار تیار ہے حکم کرو، ساتھ چلتا ہوں، روپے کی ضرورت ہے تو میں نے جو پیسے دبا رکھے تھے سب نکال کر رکھ دیے ہیں لے لو۔ اور اگر بیٹے کے لیے رشتہ درکار ہے تو بیٹی دلہن کی طرح سجی بیٹھی ہے، نکاح پڑھواؤ اور اسے لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(پنجاب کی ایک لوک کہانی)

Kya Aap ne Hamesha Zinda hi Rehna Hai ?


کیا آپ نے کبھی جہاز کا سفر کیا ہے؟ اگر نہیں کیا تُو کوئی بات نہیں ٹرین کا سفر تُو ضرور کیا ہوگا آپ نے۔۔۔
کیا آپ نے کبھی یہ غور کیا کہ سفر جہاز سے ہُو یا کہ ٹرین سے۔ ہر سفر تکلیف دہ ضرور
ہوتا ہے اس سفر میں کئی پابندیاں آپ کی ذات پر لاگو کردی جاتی ہیں جنہیں آپ باہمی
رضامندی سے قبول بھی کرلیتے ہیں۔
مثال کے طور پر آپ کو ایک خاص نشست تک محدود کردِیا جاتا ہے ۔ لیکن آپ بِلا چُوں چِراں مان جاتے ہیں۔
آپ کو اس سفر میں دورانِ سفر یہ آزادی نہیں ُہوتی کہ آپ اپنی مرضی سے دوران سفر چہل قدمی کرتے ہُوئے اندر باہر جاسکیں بلکہ جہاز کے سفر میں تُو آپ کو سیٹ بیلٹ سے باندھ دِیا جاتا ہے اور آپ اعتراض بھی نہیں کرتے۔
اِسی طرح ٹوائلٹ کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کے باوجود بھی آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوتی حالانکہ ٹرین کے مُقابلے میں ہوائی جہاز کا ٹُوائلٹ اسقدر تنگ ہُوتا ہے کہ خبر ہی نہیں ہو پاتی کہ کب شروع ہوا ۔ اور کب خَتم بھی ہو گیا۔
چاہے وہ ائيرپورٹ ہو۔ یا ریلوے اسٹیشن عموماً دھکم پیل کی وجہ سے آپ کو ایذا پُہنچتی ہے لیکن آپ خاموش رِہتے ہیں اور زیادہ واویلا نہیں مَچاتے ۔
کبھی سَخت سردی اور کبھی چلچلاتی دُھوپ کو مُناسب انتظام نہ ہُونے کی وجہ سے برداشت کرنا پڑتا ہے لیکن کبھی کوئی مُسافر اسکی بھی شکایت نہیں کرتا اور نہ ہی آپ نے آج تک کوئی ایک ایسی مِثال سُنی ہوگی کہ موسم کی سختی سے بچنے کیلئے کسی مُسافر نے کسی ریلوے اسٹیشن پر کوئی سائبان تعمیر کیا ہُو یا کوئی کمرہ بنایا ہُو۔
آخر کیوں لوگ اس طرح کی عمارت کسی ریلوے اسٹیشن پر اپنی آسانی کیلئے تعمیر نہیں کرتے؟
کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ تکلیفیں عارضی ہیں۔ کس مُسافر کو پَڑی ہے کہ عارضی جگہ پر عمارتیں تعمیر کراتا پھرے۔ سبھی جانتے ہیں کہ ہمیں کونسا ہمیشہ اس پلیٹ فارم پر رِہنا ہے۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ انتظار گاہ ہے نا کہ آرام گاہ۔ اِسی واسطے تکلیف چاہے ٹرین کے سفر میں درپیش ہُو یا جہاز کے سفر میں، ہر ایک ہَنس کر اِن تکالیف کو برداشت کرلیتا ہے کہ وہ جانتا ہے یہ تکلیف عارضی ہے ، یہ ٹھکانہ بھی عارضی ہے اور آگے منزل ہے جس پر پُہنچ کر آرام ہی آرام ہے۔
ذرا ٹھہریئے۔ یہاں رُک جایئے۔
کیا یہ دُنیا ریلوے اسٹیشن کی طرح نہیں؟
کیا یہ عارضی ٹھکانہ نہیں؟
کیا ہمیشہ ہمیں یہیں رِہنا ہے یا ہماری منزل کہیں اور ہے؟
کیا آپ نے کبھی پلٹ کر اپنی گُذشتہ زندگی کے سفر کے متعلق سوچا؟ کیا آپکو نہیں لگتا کہ جو زندگی آپ گُزار آئے ہیں ۔ وہ چاہے بیس برس ہو یا کہ ساٹھ برس کی کیوں نہ ہو ۔ کیا ایسا محسوس نہیں ہُوتا کہ جیسے ابھی دُنیا میں آئے چند ہی لمحے ہوئے تھے اور ہم زندگی کے کئی سنگ میل عبور کرآئے۔
کیا کل ہمارے بُزرگ بچے ، نوجوان ، اور جوان نہیں تھے؟
کیا آپکو ایسا محسوس نہیں ُہوتا کہ سال پلک جھپکتے ہُوئے گُزر رہے ہیں ابھی ایک عید جاتی نہیں کہ دوسری عید سر پہ آکھڑی ہُوتی ہے۔
اور آخر ہم کِس کو دھوکا دے رہے ہیں؟ کہیں ہم خُود کو تُو یہ دھوکا نہیں دے رہے؟
کہیں یہ دُنیا کا سفر ايسا سفر تو نہیں جسے منزل سمجھ کر ہم اسی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اور اسکی زیبائیش میں اتنے مگن ہیں کہ اب تو گاڑی چھوٹ جانے کا خُوف بھی ہمارے دِل سے نِکل چُکا ہے؟

منقول

Saturday, 23 May 2015

Fariha Nigarina - Jaun Elia Poetry

Jaun Elia Ghazals & Poetry

تم نے مجھ کو لکھا ہے، میرے خط جلا دیجے
مجھ کو فکر رہتی ہے آپ انہیں گنوا دیجے
آپ کا کوئی ساتھی دیکھ لے تو کیا ہو گا
دیکھیے میں کہتی ہوں یہ بہت بُرا ہو گا

میں بھی کچھ کہوں تم سے اے مری فروزینہ
زشکِ سروِ سیمینا
اے بہ نازُکی مینا
اے بہ جلوہ آئینہ
میں تمہارے ہر خط کو لوحِ دل سمجھتا ہوں
لوحِ دل جلا دوں کیا
سطر سطر ہے ان کی، کہکشاں خیالوں کی
کہکشاں لُٹا دوں کیا
جو بھی حرف ہے ان کا ، نقشِ جانِ شیریں ہے
نقشِ جاں مٹا دوں کیا
ان کا جو بھی نقطہ ہے، ہے سوادِ بینائی
میں انہیں گنوا دوں کیا
لوحِ دل جلا دوں کیا
کہکشاں لُٹا دوں کیا
نقشِ جاں مٹا دوں کیا

مجھ کو ایسے خط لکھ کر اپنی سوچ میں شاید
جرم کر گئی ہو تم
اور خیال آنے پر اس سے ڈر گئی ہو تم
جُرم کے تصور میں گر یہ خط لکھے تم نے
پھر تو میری رائے میں جُرم ہی کئے تم نے
اے مری فروزینہ!
دل کی جانِ زرّینا!
رنگ رنگ رنگینا!
بات جو ہے وہ کیا ہے
تم مجھے بتاؤ تو ۔۔۔۔۔
میں تمہیں نہیں سمجھا
تم سمجھ میں آؤ تو
جُرم کیوں کیے تم نے ؟
خط ہی کیوں لکھے تم نے ؟

Download Urdu Quotes & Poetry Collection

A Little About Jaun Elia


Jaun Elia accepted that artists were simple jokesters; performers at the best. He never preferred them much. He never tried to be one. In his prelude to 'Shaayad', his first lovely compilation, and the stand out which turned out amid his lifetime, he makes clear that he would not trade off on anything not as much as prophethood. Henceforth, he cherished preislamic agnostic Arabia, and took motivation from Kahins. He carried on with an existence of an agnostic, and he kicked the bucket as one. Subsequently, calling Jaun Elia a writer, or contrasting him and other Urdu writers, is really deprecating Jaun.


Jaun's information and comprehension of eastern and western methods of insight, history of religions, rationale, worldwide writing and governmental issues was so incomprehensible and profound that writers like Majaz and Jigar could just delight him for a brief time of time. It is along these lines nothing unexpected that his cherished artists hailed from the Arabian landmass, Babylon, and Persia, with a special case of Meer Taqi Meer, whom he considered the most underrated Urdu writer of all times. He condemned Ghalib unendingly. He used to say 'Mian Ghalib to pachchees sheroN ka shaa'ir tha' (Ghalib had just 25 great couplets). By that he implied that Ghalib had no usloob (no curious style he could call his own) not at all like Urfi, Khusro, or Meer. Before Jaun, just Yaganah had the mettle to make such a remark about Ghalib.

Jaun Elia was an aalim in the genuine feeling of the word. He had an order over numerous dialects including Arabic and Persian, and like his dad he could likewise read Sanskrit and Hebrew. He had a broad information of the historical backdrop of reasoning, religion, Islamic otherworldliness, and even Kabbalah, the supernatural part of Judaism. Along these lines, you will discover in his verse and writing follows from the Old Testament, the Bible, and the Quran; philosophical talks of the Mutazilite scholars, preislamic Arabian writers, and in addition references from Kant, Nietzsche and Sartre. There is not really any current Urdu writer who can claim to have intertwined such enhanced learning frameworks with blood expectorating Romanticism and enthusiasm. No big surprise Jaun Elia motivated individuals like Baba-i-Urdu, Maulvi Abdul Haq, to stand up in his honor when he was just in his late 20s.

Jaun Elia's first accumulation of sonnets "Shaayad" was distributed when he was 58. He has written in the introduction to "Shaayad" that he procrastinated distributed his first book for almost 30 years. As indicated by Jaun Elia, he guaranteed his dad Allama Shafique Hasan Elia, a researcher of the most noteworthy request, that he would distribute his works when he grew up. Jaun didn't distribute them. Jaun didn't grow up. Some way or another all original copies of Allama Elia's compositions got lost and Jaun experienced a feeling of remorse so awful that he hated the thought of distributed his own particular works, which he considered mediocre in examination to his dad's compositions. While Jaun's nazms and ghazals turned out to be immensely famous among the artistic and scholarly circles of Pakistan not long after his movement from Amroha in 1957, there was no gathering of his sonnets that could contact the masses. Jaun, accordingly, remained generally in insensibility till the late 1980s.

As indicated by Jaun Elia, it was the late Saleem Jaffri who constrained him to distribute his first book. "Shaayad" (1989) turned out to be monstrously prevalent with educated people and also the masses. Anyhow, Jaun constantly scorned the thought of distributed his work. 'Yaani', his second book, came after death in 2003, which Jaun Elia had deferred again for quite a long while. It was Khalid Ahmed Ansari, who, after Jaun Elia's passing, distributed the principle corpus of his works.

Khalid Ahmed Ansari to Jaun Elia is the thing that Max Brod was to Kafka. The universe of Urdu writing will stay everlastingly obligated to Mr. Ansari for his administrations to Jaun Elia specifically and Urdu writing by and large. 'Gumaan', 'Lekin', and 'Goya', were distributed by Mr. Ansari in the compass of eight years, which was never a simple errand. Jaun's compositions were scattered and barely intelligible. Mr. Ansari needed to experience every last lyric before making it open. It likewise included a lot of examination take a shot at Jaun. Jaun was a bohemian writer, and he never minded to aggregate his ballads in a fitting way. Nowadays Khalid Ansari is chipping away at Jaun's new accumulations, 'KuooN', and 'Nai Aag Ka Ehadnaama', Jaun's epic chronicled lyric embodied alwaah. Jaun's composition work is likewise being incorporated by Mr. Ansari. 'Farnood', a gathering of Jaun's papers is going to hit the stores.

Jaun's life can't be outlined in few passages. He was excessively baffling, excessively overwhelming to be described in words. Maybe, Jaun's life and his verse can be better seen through his representation on Shaayad's spread, deified by eminent craftsman and Jaun's nephew Iqbal Mehdi. The representation is reminiscent of John Milton's showstopper 'Heaven Lost'. It catches the minute when Lucifer ascents up against the power of God. Jaun constantly looked downward on creation, loathed authority–both common and awesome. His verse, consequently, is not an affection tune or a requiem; it is a serenade of an agitator. By perusing Jaun Elia you will leave upon the odyssey to doubtful information, Agnosticism, and Nihilism. It will make you never-endingly bothered, for this was something Jaun needed his perusers to be—stay hungry for information. In this manner, Jaun will keep on rousing the individuals who challenge, who uncertainty, and who set out to battle against conventionality and orthopraxy.

As all would bite the dust, so did Jon Elia. Amid the most recent 40 years Death gazed in his face numerous a period however he continued escaping it. An unending TB understanding in the mid-50s, he got away from the grasp of Death because of sheer self discipline. May be his intense confidence in the eternality of his verse defeated the continuous summons of Death. At long last he bowed out on 7th November, abandoning a large number of his fans to grieve his misfortune.

I saw, more than five many years of close relationship with him, various clumps of youthful artists securing to him for motivation and direction however it is an incongruity of reality that relatively few of them turned out to be their primary ethicalness. One saw them vanishing in meager air imagining that they had harvested the harvest and could get by and by. I would prefer not to name various artists and journalists who profited from Jon Elia's Greek Academy like talks on rationality and ve

..

Saturday, 16 May 2015

Tasveer - Afsana Az Baidakht Zahra Jamaal - تصویر بیدخت زاہرا جمال


شام کافی سرد تھی۔پہاڑوں سے ٹھنڈی ہوائیں شائیں شائیں کرتی گزر رہی تھیں۔مگر ہال کے اندر ہلکی ہلکی بدن کو ٹکور کرنے والی حرارت تھی۔ہال سامعین و حاضرین سے بھرا ہوا تھا۔مصوری کے موضوع پر کانفرنس تھی تو وہ بھی چلا آیا۔سٹیج کی پشت پر لگی بڑی سکرین پر slide showمیں تصویریں چل رہی تھیں۔وہ مقرر کی تقریر سے زیادہ ان تصویروں کے سحر میں کھویا ہوا تھا کہ اسے اپنے بائیں طرف سے ہلکی سی خوشبو آئی۔۔۔۔۔مفلر کے اندر اچھی طرح لپٹی ہوئی گردن کو اس نے ہلکا سا موڑا تو آنکھیں سیدھی اس کے ماتھے کے ساتھ جا ٹکرائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہاں سے پھسلیں تو اس کی آنکھوں پر جا کے اٹک گئیں۔۔وہ بھی اس کی طرف دیکھ چکی تھی
ہائے کیا حال ہے؟؟؟اس نے ہاتھ آگے بڑھایا
ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھی لگ رہی ہو۔۔۔۔وہ ہاتھ تھامتے ہوئے بولا
کب آئی ہو؟؟؟؟
آج ہی آئی ہوں۔۔
بتا دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا فرق پڑتا ہے ۔۔مل تو گئے ہم۔۔
ہمسائے جو ہیں۔۔ہمسایہ ٹھنڈ میں گرم چادر کی بکل جیسا ہوتا ہے جب دیا ر غیر میں ملے
عجیب سی سرشاری کے ساتھ اس نے اس کے ہونٹوں کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔۔۔۔تمہاری اس لپ اسٹک کا رنگ کون سا ہے؟
جامنی ہے۔۔۔۔۔وہ پھر مسکرائی
ایک دلنواز سی حدت پھیل کر اس کو گھیرے میں لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔ساتھ ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کے سانسوں کو محسوس کرنا بھی ایک راحت ہے۔۔مقرر کیا کہہ رہا تھا اس نے نہیں سنا۔۔اس کی ساری حسیات ساتھ والے سانسوں پر مرتکز تھیں جو اس کے سانسوں کے ساتھ مل کر ہالہ بنا رہے تھے ۔درد جو ہر وقت بدن کو کاٹتا رہتا تھا اس وقت کہیں سو گیا تھا۔اس نے مفلر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔بعض جسموں کی محض موجودگی ہی روح کو سرشار کر دیتی ہے۔وہ اس وقت سامنے کی طرف متوجہ ہوچکی تھی۔۔اس کو اس خیال سے ہی تسکین ہوئی کہ وہ اسکے ساتھ بیٹھی سانس لے رہی ہے
سانس لینا بھی کیسی عادت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے اختیار اس نے گلزار کی یہ لائن پڑہی
جیے جاتے ہیں ۔۔۔جیے جاتے ہیں
عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں
جیے جانا بھی کیسی عادت ہے۔۔۔وہ مسکرائی
تم ہر وقت جس درد کو کاٹتے ہو نا! وہ میری روح کو بھی چھیدتا رہتا ہے۔۔۔۔وہ سرگوشی میں بولی
وہ مسکرا نے لگا۔خیال جانے کیاں غوطہ کھا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جامنی رنگ جب پھیلتا ہے تو شفق کی تصویر بن جاتا ہے۔۔۔جس کے نیچے سمندر بہہ رہا ہو۔جامنی رنگ کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔۔لہر کے اوپر لہر آتی ہے۔۔وہ زندہ ہے،جیتا ،جاگتا،توانا،کف اڑاتا ہوا، رواں دواں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے اندر حیات یے۔۔وہ دیکھو
اس نے انگلی سے سکرین کی طرف اشارہ کیا۔۔۔وہ حیرت سے اس کو تک رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کہہ رہے ہو تم؟؟؟؟سکرین پر تو "دی لاسٹ سپر" دکھائی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔چلو اٹھو کہیں چلتے ہیں
ہال کی سیڑھیاں چڑھ کر وہ باہر آگئے۔۔۔باہر رات سیاہ اور تاریک تھی۔۔۔وہ ساتھ ساتھ چلنے لگے۔۔۔رات ان کے آس پاس سے ہو کر گزرنے لگی
کیسا ہے تمہارا وہ؟
ٹھیک ہی ہوگا میری بہت دنوں سے بات ہی نہیں ہوئی
کیوں اتنے عرصے تک لا تعلق کیوں ہو جاتی ہو تم؟؟؟؟؟؟؟؟
شاید ہم دونوں ایک جیسے ہیں اس لیے
مقناطیس کے دو ایک جیسے پول ایک دوسرے کو دور دھکیلتے ہیں۔۔۔اور دو مخالف پول کھنچ کر ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ مقنا طیس ہوتا ہے انسان نہیں۔۔۔وہ چڑ گئی
پتا نہیں کیوں تم لوگوں نے مادی اشیا کے خواص اور زمہ داریوں کوانسانی تعلقات اور رویوں کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔۔لوہے اور پتھروں کی مثالیں لے کر آ جاتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریکی ان کے آس پاس سے سرک رہی تھی۔۔دونوں بہت قریب قریب چل رہے تھے۔۔۔وہ اس کے ساتھ چلتا رہا۔اس کو چھونے کی خواہش اس کے لہو کے خلیوں کے اندر جڑ پکڑ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر وہ لا تعلقی سے چلتی رہی
عجیب عورت ہے یہ۔۔۔۔پھیکی،گہری،الگ الگ،آزاد۔۔۔۔۔بے ربط لفظ اور خیالات جیسے کہ شدید خواہش میں کسی سبب کے قابو نہ آسکنے پر کسی شخص کے ہوتے ہیں اس کے دماغ سے نکل نکل کر ٹھنڈے برفائےہوئےاندھیرے میں گم ہوتے گئے۔۔۔
اس کا مرکز سلامت تھا۔۔وہ اپنے مرکز کو بچائے ہوئے تھی۔۔۔۔پھیکی ،بے رنگ ،گہری اور الگ تھلگ۔۔۔۔۔وہ جانتا تھا کہ اس کی اس کو چھونے کی خواہش تشنہ تکمیل رہے گی
بوڑھا مصور رنگوں کے سٹروک لگا رہا تھا۔۔۔۔سٹروک پر سٹروک لگائے جا رہا تھا۔رنگ بکھر رہے تھے۔پھیل رہے تھے۔۔۔وہ سنگی مجسمے کی طرح پتھرائی ہوئی بیٹھی تھی۔۔۔۔بوڑھا اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔۔۔وہ وحشیانہ انداز میں سٹروک پہ سٹروک لگا رہا تھا۔۔۔رات کے منتشر اور آوارہ ٹکڑے ادھر ادھر کونوں کھدروں،سوراخوں،اور نیچی چھت کے گھروں کے اندر پناہ لئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔دن دھندلایا ہوا تھا۔۔۔سارے رنگ،سبھی رنگ ،اپنی اپنی شناخت سے ورا ہی ورا تصویر کے قالب میں ڈھلتے جا رہے تھے
مصور تھک ہار کر بیٹھ گیا اور کنج لب کو زرا کھینچ کر اور ایک آنکھ کو قدرے میچ کراس نے طنزیہ اس کی طرف دیکھا۔۔۔مصور نے رنگوں کے ساتھ کھلواڑ کیا تھا
آنکھ سے اوجھل پس منظر اور پیش منظر میں اتنے رنگ بھر دیئے تھے کہ ناظر کی آنکھ اس کے مرکز کی طرف جا ہی نہ سکتی اور راستے کے رنگوں کے بھٹکاوے کا شکار ہو جاتی تھی
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر سامنے آئی۔۔۔کینوس پر رنگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا۔اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔
نیلے،پیلے،سرخ،سبز،جامنی،کاسنی،سرمئی رنگوں کے دریا اس کے ہاتھوں کے ناخنوں سے پھوٹ بہے۔۔۔بصارت کو رنگوں نے لپیٹ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تصویر مکمل تھی
Maryam Sammar's photo.